Stay Conneted

Showing posts with the label DOSTI SHAYARIShow all
اس قدر تیرے دل میں اتر جائیں گے  تیری دھڑکن کا تسلسل بھی بگڑ جائے گا"
 “مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ شخص ہی مجھ کو برباد کر دے گا
 تمہاری وفا پہ تو بھووسہ ہے ہمیں  “مگر کیا کریں اپنے نصیب سے ڈر لگتا
 کیوں بار بار پوچھتے ہو پیار کی منزلیں؟  کہا نا۔۔۔ آخری سانس تک تیرے ہیں!
 آج تمہارے لبوں کی نیت کر کے،  ایک خوبصورت گلاب چوما ہم نے!
 دل سے نکالو تو مانوں،  یوں چھوڑ جانا تو کوئی کمال نہیں!
 نہیں عشق میں باہوں کا سہارا ملے، کسی کو جی بھر کے محسوس کر لینا بھی محبت ہے!
 جیسے کوئی چھوڑ نہیں سکتا اپنا مذہب،  ایسا ہی کچھ عقیدہ رکھتے ہیں ہم تیرے لئے!
بری کافر طبیعت ہے اذیت ہی اذیت ہے
محبت تھی، مگر یہ بے  قراری تو نہ تھی پہلے الہی آج کیوں یاد آتی  ہے بے اختیار اس کی
محبت کا تو پتہ نہیں مگر انسان نفرت دل سے کرتا ہے
محبتوں کا بھی موسم ہے جب گزر جائے سب اپنے اپنے گھروں کو تلاش کرتے ہیں
جن کی فطرت میں تھا بغاوت کرنا میں نے ان دلوں پے بھی حکومت کی ہیں
یوں آنکھوں کی نمی میں عکس اس کہ ٹھہرگیا ہے
کسی کے ٹوٹ جانے کو اک لمحہ کافی
زندگی تو نے وفا نہ کی