نہ چاہو اتنا ہمیں چاہتوں سے ڈر لگتا ہے”
نہ آو اِتنا قریب ہمیں جُدائی سے ڈر لگتا ہے
تمہاری وفا پہ تو بھووسہ ہے ہمیں
“مگر کیا کریں اپنے نصیب سے ڈر لگتا ہے
نہ چاہو اتنا ہمیں چاہتوں سے ڈر لگتا ہے”
نہ آو اِتنا قریب ہمیں جُدائی سے ڈر لگتا ہے
تمہاری وفا پہ تو بھووسہ ہے ہمیں
“مگر کیا کریں اپنے نصیب سے ڈر لگتا ہے
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا .
0 Comments