جیسے کوئی چھوڑ نہیں سکتا اپنا مذہب،
ایسا ہی کچھ عقیدہ رکھتے ہیں ہم تیرے لئے!
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا
لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا .
0 Comments